ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک کی خبروں کو مسترد کر دیا: 'طلبہ کا تمام ریکارڈ مکمل محفوظ ہے'
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے سوشل میڈیا اور بعض دیگر پلیٹ فارمز پر زیرِ گردش ان تشویش ناک خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ادارے کا کلاؤڈ سسٹم یا ڈیٹا بیس ہیک ہو گیا ہے اور ہزاروں طلبہ کا حساس ڈیٹا لیک ہو چکا ہے۔
ایچ ای سی کا باضابطہ وضاحتی بیان
ایچ ای سی کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ وضاحتی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ادارے کے سسٹم میں کسی قسم کی سائبر دراندازی یا ڈیٹا چوری ہونے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
ترجمان نے کہا، "ڈیٹا لیک ہونے سے متعلق پھیلائی جانے والی تمام خبریں مکمل طور پر جھوٹی، بے بنیاد اور حقیقت کے برعکس ہیں۔ ایچ ای سی کے تمام آن لائن سسٹمز، ڈگری اٹیسٹیشن پورٹلز اور دیگر ڈیجیٹل سروسز معمول کے مطابق اور مکمل سیکیورٹی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔"
سائبر سیکیورٹی کے سخت انتظامات
ایچ ای سی حکام نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان بھر کے لاکھوں طلبہ، اساتذہ اور جامعات کا ڈیٹا ان کی اولین ترجیح ہے۔ ڈیٹا کی پرائیویسی اور اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایچ ای سی کا آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ عالمی معیار کے سائبر سیکیورٹی پروٹوکولز اور جدید ترین انکرپشن ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا ہے۔ سسٹمز کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔
افواہ سازوں کے خلاف انتباہ
ادارے نے واضح کیا ہے کہ ایسی جھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلانے کا واحد مقصد تعلیمی شعبے، جامعات اور خاص طور پر طلبہ میں بلاوجہ خوف و ہراس اور بے چینی پھیلانا ہے۔
ایچ ای سی نے تمام طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ سنسنی خیز اور غیر تصدیق شدہ خبروں پر یقین کرنے کے بجائے کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے صرف ایچ ای سی کی آفیشل ویب سائٹ اور ان کے تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ہی انحصار کریں۔
اہم نکات:
- ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ڈیٹا بیس ہیک ہونے یا معلومات چوری ہونے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔
- ترجمان ایچ ای سی کے مطابق ادارے کا آئی ٹی انفراسٹرکچر اور تمام پورٹلز مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
- طلبہ اور جامعات کی معلومات کے تحفظ کے لیے جدید ترین سائبر سیکیورٹی پروٹوکولز اور فائر والز کام کر رہی ہیں۔
- عوام اور طلبہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ ذرائع اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔