کراچی: ملک کی بڑی جامعات میں شمار ہونے والی جامعہ کراچی میں اساتذہ کی جانب سے سمسٹر امتحانات کے بائیکاٹ کو چار ہفتے مکمل ہونے کے قریب ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 50 ہزار طلبہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔
اساتذہ کی جانب سے مبینہ طور پر مختلف واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف جاری احتجاج کے باعث امتحانی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ امتحانات کی بحالی کے حوالے سے تاحال کوئی واضح ٹائم لائن سامنے نہیں آئی۔
طلبہ اور والدین کا کہنا ہے کہ امتحانات میں مسلسل تاخیر سے نہ صرف تعلیمی کیلنڈر متاثر ہو رہا ہے بلکہ آئندہ سمسٹرز، تدریسی شیڈول اور تعطیلات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
جامعہ کراچی کے اساتذہ 5 مئی سے شام کی کلاسوں، کاپی چیکنگ، امتحانی نگرانی، پرچہ سازی، ہاؤس سیلنگ، لیو انکیشمنٹ اور دیگر واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اساتذہ نے جامعہ کو درپیش مالی مسائل کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
دوسری جانب طلبہ کا کہنا ہے کہ طویل تعطل کے باعث ان کی تعلیمی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے جلد از جلد مسئلے کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات، انگریزی اور ویژول اسٹڈیز سمیت مختلف شعبوں کے طلبہ نے امتحانات میں تاخیر اور رابطے کے مؤثر نظام کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی شیڈول میں غیر یقینی صورتحال ان کے مستقبل کے منصوبوں کو متاثر کر رہی ہے۔
طلبہ نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ فیسوں میں اضافے کے باوجود تعلیمی سہولیات اور انتظامی کارکردگی کے حوالے سے ان کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔
ادھر جامعہ کراچی اساتذہ سوسائٹی کے صدر نے کہا کہ ایسے تنازعات میں سب سے زیادہ نقصان طلبہ کو پہنچتا ہے، تاہم ان کے بقول اس صورتحال کی ذمہ داری انتظامی مسائل اور مالی بدانتظامی پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کو مطلوبہ تعلیمی سہولیات اور ملازمین کو بروقت مالی ادائیگیاں فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر معاملہ جلد حل نہ ہوا تو نہ صرف موجودہ سمسٹر بلکہ آئندہ تعلیمی سرگرمیاں بھی مزید متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔