میں اپنا حج ہدیہ کرتا ہوں
علی بن الموفق فرماتے ہیں کہ میں نے پچاس سے زائد حج کئے اور میں نے اس کا ثواب نبی کریم ﷺ، ابوبکر صدیقؓ، عمر فاروقؓ، عثمان غنیؓ اور علیؓ بن طالب رضی اللہ عنہم اور اپنے والدین کو بخش دیا اور صرف ایک حج میرے پاس باقی رہا۔ ایک مرتبہ حج کے درمیان میں نے میدان عرفات میں حاجیوں کو دیکھا اور ان کی چیخ و پکار اور ان کے گڑگڑانے نے مجھ پر ایک کیفیت طاری کردی۔ میں نے دعا کی کہ اے اللہ اگر ان لوگوں میں کوئی ایک ایسا انسان ہو جس کا حج قبول نہیں تو میں اپنا حج اس کو ہدیہ کرتا ہوں۔ میرے حج کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیجئے۔
پھر میں نے مزدلفہ میں رات بسر کی۔ میں نے خواب میں اللہ تعالیٰ کی زیارت کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اے علی بن الموفق کیا تو مجھ پر سخاوت کرتا ہے۔ میں نے تمام اہل موقف (عرفات میں جمع ہونے والے لوگ) اور اتنی تعداد میں اور لوگوں کو بخش دیا اور ہر شخص کی سفارش اس کے گھر والوں اور اس کے دوستوں اور اس کے پڑوسیوں کے بارے میں قبول کر لی کیونکہ میں ہی اہل التقویٰ اور اہل المغفرہ ہوں۔‘‘
(تفسیر الاحلام لابن سیرین)