مکہ مکرمہ: نئے اسلامی سال کے آغاز پر خانہ کعبہ کا غلاف (کسوہ) تبدیل کر دیا گیا، جس کے دوران مسجد الحرام میں عقیدت، احترام اور روحانیت سے بھرپور مناظر دیکھنے میں آئے۔
دنیا بھر کے مسلمان اس مقدس لمحے کو نہایت عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جب بیت اللہ کا غلاف تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس سال بھی لاکھوں زائرین نے مسجد الحرام میں موجود رہ کر اس روح پرور منظر کا مشاہدہ کیا۔
حرم انتظامیہ کی نگرانی میں تیار کیا گیا نیا غلاف خصوصی تقریب کے دوران مسجد الحرام پہنچایا گیا، جہاں ماہرین کی ایک بڑی ٹیم نے انتہائی مہارت اور احتیاط کے ساتھ اسے خانہ کعبہ پر آویزاں کیا۔
اس مقدس خدمت میں کسوہ فیکٹری کے ماہرین، حرم کے کارکنان اور متعلقہ اداروں کے سینکڑوں اہلکار شریک رہے۔ غلاف کی تبدیلی کا عمل کئی گھنٹوں تک جاری رہا، تاہم اس دوران مسجد الحرام میں عبادات اور طواف کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہا۔
لاکھوں زائرین معمول کے مطابق بیت اللہ کے گرد طواف اور عبادت میں مشغول رہے، جبکہ نئی چادر اوڑھتے کعبۃ اللہ کے روح پرور مناظر ہر آنکھ کو اپنی جانب متوجہ کرتے رہے۔
یہ مقدس روایت اب نئے اسلامی سال کے پہلے دن ادا کی جاتی ہے۔ چند برس قبل تک غلاف کعبہ کی تبدیلی 9 ذوالحجہ کو اس وقت کی جاتی تھی جب حجاج کرام میدان عرفات روانہ ہو چکے ہوتے تھے اور مسجد الحرام میں نسبتاً کم رش ہوتا تھا۔
تاہم حالیہ برسوں میں اس تاریخی تقریب کو یکم محرم سے منسلک کر دیا گیا ہے تاکہ نئے ہجری سال کا آغاز اس بابرکت منظر کے ساتھ ہو۔
غلاف کعبہ خالص ریشم سے تیار کیا جاتا ہے اور اس پر سونے اور چاندی کے دھاگوں سے قرآنی آیات کشیدہ کی جاتی ہیں۔ کسوہ کی تیاری اور تبدیلی سعودی عرب کی نگرانی میں ایک منظم اور مقدس روایت کے طور پر انجام دی جاتی ہے۔