دانتوں کی زردی دور کرنے کے آسان گھریلو طریقے
چمکدار اور سفید دانت خوبصورت مسکراہٹ کا اہم حصہ ہوتے ہیں، لیکن عمر بڑھنے، چائے، کافی، سگریٹ نوشی اور بعض غذاؤں کے زیادہ استعمال سے دانتوں کی رنگت زرد پڑنے لگتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ چند آسان گھریلو طریقوں سے دانتوں کی سفیدی کو بہتر بنانے میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔
بیکنگ سوڈا کا استعمال
بیکنگ سوڈا دانتوں کی صفائی اور زردی کم کرنے کے لیے ایک مقبول گھریلو نسخہ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود خصوصیات دانتوں پر موجود سطحی داغ دھبوں کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
استعمال کا طریقہ:
ایک چوتھائی چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا تھوڑے سے پانی میں ملا کر پیسٹ بنائیں اور نرم برش کے ذریعے دانتوں پر لگائیں۔ تاہم اس کا استعمال اعتدال سے کریں کیونکہ زیادہ استعمال دانتوں کی سطح کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسٹرابیری کا فائدہ
اسٹرابیری میں موجود میلک ایسڈ ایک قدرتی صفائی کرنے والے جز کے طور پر کام کرتا ہے جو دانتوں کی سطح پر موجود داغ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
سیب کھائیں
سیب کو قدرتی ٹوتھ برش بھی کہا جاتا ہے۔ اسے چبانے سے دانتوں پر جمی گندگی اور خوراک کے ذرات صاف ہونے میں مدد ملتی ہے جبکہ اس میں موجود قدرتی تیزاب صفائی کے عمل کو مزید مؤثر بناتا ہے۔
ناریل کے تیل سے کلی
ناریل کے تیل سے کلی کرنے کا طریقہ، جسے "آئل پلنگ" کہا جاتا ہے، منہ میں موجود بعض بیکٹیریا کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
استعمال کا طریقہ:
ایک چمچ ناریل کا تیل منہ میں لے کر 10 سے 15 منٹ تک آہستہ آہستہ گھمائیں، پھر اسے تھوک دیں اور منہ دھو لیں۔
کوئلے پر مبنی ٹوتھ پیسٹ
مارکیٹ میں دستیاب ایکٹیویٹڈ چارکول (کوئلہ) والے ٹوتھ پیسٹ دانتوں پر موجود سطحی داغ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین دانتوں کا مشورہ ہے کہ ان کا استعمال احتیاط سے کیا جائے۔
پانی سے بھرپور پھل اور سبزیاں
تربوز، خربوزہ، کھیرے اور ٹماٹر جیسی غذائیں منہ میں لعاب دہن کی مقدار بڑھاتی ہیں، جس سے دانتوں میں پھنسے خوراک کے ذرات صاف ہونے میں مدد ملتی ہے اور منہ کی صفائی بہتر رہتی ہے۔
باقاعدگی سے برش کرنا نہ بھولیں
دانتوں کو سفید رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ روزانہ باقاعدگی سے برش کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق:
- دن میں کم از کم دو بار دانت برش کریں۔
- ہر بار کم از کم دو منٹ تک برش کریں۔
- نرم برش استعمال کریں۔
- چائے، کافی یا رنگ دار مشروبات کے زیادہ استعمال کے بعد منہ صاف کریں۔
- تیزابیت والی غذا کھانے کے فوراً بعد برش نہ کریں کیونکہ اس سے دانتوں کی حفاظتی سطح متاثر ہو سکتی ہے۔
احتیاط ضروری
اگر دانتوں کی زردی بہت زیادہ ہو یا مسوڑھوں کے مسائل موجود ہوں تو گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرنے کے بجائے ماہرِ دندان (ڈینٹسٹ) سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔ بعض اوقات دانتوں کی رنگت میں تبدیلی کسی طبی مسئلے کی نشاندہی بھی ہو سکتی ہے۔
درست صفائی، متوازن غذا اور مناسب احتیاط کے ذریعے دانتوں کو طویل عرصے تک سفید اور صحت مند رکھا جا سکتا ہے۔