افریقہ میں پھیلنے والی ایبولا وائرس کی وبا کے بارے میں طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو جلد قابو نہ کیا گیا تو یہ تاریخ کی بدترین وباؤں میں شامل ہو سکتی ہے۔
افریقی ادارہ برائے بیماریوں کے کنٹرول کے سربراہ ژاں کاسیا نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو وبا کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے اور متاثرین کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق موجودہ ایبولا وبا کا سب سے زیادہ اثر ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں صحت کے کارکنوں کو عوامی عدم اعتماد، غلط معلومات اور مشرقی علاقوں میں جاری بدامنی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام کے مطابق اس وبا میں اب تک 800 سے زائد تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ تقریباً 200 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ماضی کی سب سے خطرناک ایبولا وبا 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقہ میں سامنے آئی تھی، جس میں 11 ہزار سے زائد اموات ہوئی تھیں۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کیونکہ وائرس کانگو سے سرحد پار کرکے یوگنڈا تک پہنچ چکا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کا علاج گاہوں پر اعتماد کم ہونا وائرس کی روک تھام میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
بین الاقوامی امدادی اداروں کے مطابق افریقہ کے کئی متاثرہ علاقوں میں افواہیں اور غلط معلومات پھیل رہی ہیں، جس کے باعث بعض افراد طبی مراکز جانے سے گریز کر رہے ہیں۔
ایبولا کے پھیلاؤ میں تدفین کے روایتی طریقے بھی ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں، کیونکہ متاثرہ افراد کے جسم سے رابطہ وائرس کی منتقلی کا سبب بن سکتا ہے۔ امدادی کارکن اب ایسے طریقے اختیار کر رہے ہیں جن سے خاندان کے افراد حفاظتی اقدامات کے ساتھ اپنے پیاروں کو آخری بار دیکھ سکیں۔
علاقائی رہنماؤں نے عالمی برادری سے مزید مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایک محدود وبا علاقائی یا عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
جی 7 ممالک کے رہنماؤں نے بھی فرانس میں ہونے والے اجلاس کے دوران ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات اور انسانی امداد فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے عوامی اعتماد بحال کرنا، درست معلومات فراہم کرنا اور بروقت طبی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔