کیا آپ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو جم جانے کے نام سے ہی تھک جاتے ہیں؟ اور ڈمبلز کو دیکھ کر یوں بھاگتے ہیں جیسے وہ کوئی خلائی مخلوق ہوں؟ تو ذرا ٹھہریے جناب! ایک نئی تحقیق نے کچھ ایسا انکشاف کیا ہے جو شاید آپ کو فوری طور پر ٹریک سوٹ پہننے پر مجبور کر دے۔
جی ہاں، برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، ویٹ ٹریننگ اور مزاحمتی ورزشیں نہ صرف آپ کے مسلز بناتی ہیں، بلکہ آپ کی عمر لمبی کرنے اور قبل از وقت موت کے خطرے کو ٹالنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
یہ تحقیق ہے یا کوئی فلمی کہانی؟
ذرا سوچیے! امریکا کے ایک لاکھ 47 ہزار سے زائد افراد پر تقریباً 30 سال تک نظر رکھی گئی۔ یہ کوئی معمولی جاسوسی نہیں تھی بلکہ تین بڑے طبی مطالعات کا نچوڑ تھا۔ اس طویل عرصے کے دوران 35 ہزار افراد چل بسے، لیکن ان کی قربانی رائیگاں نہیں گئی! سائنس دانوں کو یہ سمجھنے کا موقع مل گیا کہ کس طرزِ زندگی نے کسے زیادہ عرصے تک جوان اور صحت مند رکھا۔
کیا صرف بھاگنا ہی کافی ہے؟
ہم میں سے اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ صبح سویرے پارک میں پیدل چلنا، سائیکل چلانا یا تیراکی کرنا ہی اصل ورزش ہے۔ تحقیق میں ان تمام "ایروبک" سرگرمیوں کا بھی ریکارڈ رکھا گیا، لیکن اصل ہیرو تو وہ نکلے جو مشینوں پر پسینہ بہا رہے تھے یا وزن اٹھا رہے تھے!
نتائج جو آپ کے ہوش اڑا دیں
محققین نے جب ورزش کی ان عادات کا موازنہ دل، کینسر، سانس اور اعصابی امراض سے ہونے والی اموات سے کیا، تو ایک دلچسپ بات سامنے آئی۔ جن لوگوں نے اپنی روٹین میں معتدل مقدار میں مزاحمتی ورزشیں شامل کی تھیں، ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ حیرت انگیز طور پر کم تھا۔
مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ فائدہ اس وقت بھی برقرار رہا جب ماہرین نے تمباکو نوشی، خوراک، خاندان کی طبی ہسٹری اور دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھا۔ یعنی ویٹ ٹریننگ نے ہر میدان میں خود کو منوا لیا!
تو پھر، کیا ارادہ ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ پٹھوں کو مضبوط بنانا صرف باڈی بلڈرز کا کام نہیں ہے۔ یہ آپ کی مجموعی صحت کو بہتر بنا کر آپ کی زندگی میں کئی قیمتی سالوں کا اضافہ کر سکتا ہے۔
تو دوستو! اگلی بار جب آپ جم کے قریب سے گزریں، تو ڈرنے کے بجائے ایک مسکراہٹ کے ساتھ اندر قدم رکھیں۔ کیونکہ کون جانتا ہے، شاید وہ ڈمبلز آپ کی لمبی زندگی کا ٹکٹ ہوں!