عالمی کرکٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات کے پیش نظر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سینٹرل کنٹریکٹ سسٹم میں بڑی اصلاحات کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹرز کے لیے الگ الگ فارمیٹ پاتھ ویز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
پی سی بی کے مطابق پرانا “ایک ہی نظام سب کے لیے” ماڈل ختم کر دیا گیا ہے اور اب ہر کھلاڑی کو اس فارمیٹ کے مطابق جانچا جائے گا جس سے وہ وابستہ ہوگا۔ اس نئے فریم ورک میں کھلاڑیوں کی کارکردگی، فٹنس اور ترقی کا تعین اسی مخصوص ٹریک کے اندر ہوگا۔
نئے نظام کے تحت سینٹرل کنٹریکٹ رکھنے والے کھلاڑیوں کو ریڈ بال (ٹیسٹ) اور وائٹ بال (ٹی ٹوئنٹی/ون ڈے) پاتھ ویز میں تقسیم کیا جائے گا۔ ٹیسٹ اسپیشلسٹس کو خصوصی تحفظ اور اضافی مراعات دی جائیں گی جبکہ ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹس کو فرنچائز لیگز میں زیادہ لچکدار مواقع ملیں گے۔
پی سی بی کے مطابق اس نظام کا مقصد ٹیسٹ کرکٹ کو محفوظ بنانا اور ہر فارمیٹ کے کھلاڑی کے ساتھ منصفانہ سلوک کو یقینی بنانا ہے۔ نئے فریم ورک میں کھلاڑیوں کی درجہ بندی اے، بی، سی کی بجائے واضح فارمیٹ ٹریکس کی بنیاد پر ہوگی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹرز کو دنیا کی بڑی ریڈ بال لیگز میں کھیلنے کی اجازت ہوگی، تاہم ٹی ٹوئنٹی فرنچائز لیگز میں ان کی شرکت محدود رہے گی۔
نیا کنٹریکٹ سسٹم تین مرحلوں—فٹنس اسسمنٹ، ڈومیسٹک شرکت اور کارکردگی کے جائزے—پر مبنی ہوگا اور اسے 2026 کے کنٹریکٹ سائیکل سے نافذ کیا جائے گا۔