یمن میں سوشل میڈیا پر اپنی خطرناک مہم جوئیوں کی وجہ سے شہرت پانے والے 30 سالہ القعقاع بن عنتر ایک افسوسناک حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔ وہ صوبہ الضالع میں ایک آتش فشاں کے دہانے کے قریب ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران توازن کھو بیٹھے اور گہرے حصے میں جا گرے۔
القعقاع بن عنتر بغیر حفاظتی سامان کے بلند و خطرناک چٹانوں اور پہاڑی ڈھلوانوں پر چڑھنے کے لیے مشہور تھے، جس کے باعث مداحوں نے انہیں ’’یمن کا سپائیڈر مین‘‘ کا لقب دیا تھا۔ وہ اپنی ویڈیوز کے ذریعے سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہوئے۔
حادثے کے بعد امدادی ٹیموں نے طویل اور مشکل آپریشن کے ذریعے ان کی لاش کو آتش فشانی دہانے سے نکالا۔ علاقے میں بلند درجہ حرارت اور دشوار گزار راستوں نے ریسکیو کارروائی کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
ان کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ کچھ صارفین نے اسے خطرناک مواد اور ویوز کے لیے حد سے زیادہ رسک لینے کا نتیجہ قرار دیا، جبکہ بعض نے ان کی معاشی مشکلات اور محدود مواقع کو بھی اس رجحان سے جوڑا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو اجاگر کر رہا ہے کہ سوشل میڈیا شہرت کے لیے خطرناک اسٹنٹس کس حد تک انسانی زندگی کے لیے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں اور ایسے مواد کے لیے حفاظتی ضوابط کی کتنی ضرورت ہے۔