Ad Blocker Detected

We rely on ads to keep our content free. Please whitelist this site in your ad blocker, then refresh to continue reading.

How to whitelist this site

  1. Click your ad blocker icon in the browser toolbar.
  2. Find "Whitelist this site" or "Disable on this page".
  3. Click the button below and we'll verify automatically.
⏳ Verifying, please wait…
❌ Ad blocker still active. Please whitelist this site and try again.
✅ All good! Reloading…
|
اردوپیور NEWS
لائیو
تازہ ترین
انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ | انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ |

بڑے برگر، بڑی ڈرنکس — کیا ہم واقعی زیادہ کھا رہے ہیں یا ہمیں زیادہ کھلایا جا رہا ہے؟

javaid 24 May 2026 1 منٹ پڑھیں 120

🍔 بڑے برگر، بڑی ڈرنکس — کیا ہم واقعی زیادہ کھا رہے ہیں یا ہمیں زیادہ کھلایا جا رہا ہے؟

کولڈ ڈرنکس کے بڑے گلاس، بڑے برگر اور کھانے سے بھری ہوئی پلیٹیں آج عام بات ہیں۔ مگر پچھلے 50 سالوں میں صرف کھانے کے سائز ہی نہیں بڑھے، بلکہ دنیا کے کئی حصوں میں موٹاپے کی شرح بھی تیزی سے بڑھ گئی ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی زیادہ بھوکے ہو گئے ہیں، یا ہمیں ایسے ماحول میں ڈال دیا گیا ہے جہاں ہم زیادہ کھا لیتے ہیں؟

📈 یہ تبدیلی کب شروع ہوئی؟

ماہرین کے مطابق 1980 کی دہائی کے بعد خاص طور پر امریکہ میں کھانے کے حصے (portion sizes) تیزی سے بڑے ہونے لگے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ لوگ زیادہ تر گھر کے بجائے باہر کھانا کھانے لگے، اور ریستورانوں کے درمیان سخت مقابلہ شروع ہو گیا۔

نیو یارک یونیورسٹی کی ڈاکٹر لیزا ینگ کہتی ہیں:

“اگر ایک جگہ چھوٹی پلیٹ مل رہی ہو اور دوسری جگہ بڑی، تو زیادہ تر لوگ بڑی پلیٹ والی جگہ کو منتخب کرتے ہیں۔”

ان کے مطابق ریستورانوں نے یہ حکمت عملی اپنائی کہ کم قیمت میں زیادہ کھانا دے کر گاہک کو لگے کہ اسے اچھی ڈیل مل رہی ہے، جبکہ اصل میں وہ زیادہ کماتے ہیں۔

🌍 یہ مسئلہ صرف امریکہ تک محدود نہیں

برازیل کی یونیورسٹی آف ساؤ پالو کی ڈاکٹر مارلے الوارینگا کہتی ہیں کہ یہی رجحان اب ترقی پذیر ممالک میں بھی نظر آ رہا ہے، خاص طور پر پیک شدہ اور پراسیسڈ فوڈ کے ذریعے۔

ان کے مطابق روایتی کھانے جیسے دال، چاول یا مچھلی کے حصے زیادہ نہیں بدلے، لیکن فاسٹ فوڈ اور اسنیکس کے سائز ضرور بڑھ گئے ہیں۔

🍟 زیادہ کھانا "نارمل" کیسے بن گیا؟

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جب لوگوں کو زیادہ کھانا دیا جائے تو وہ خود بخود زیادہ کھا لیتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر خوراک دگنی کر دی جائے تو لوگ اوسطاً 35 فیصد زیادہ کھاتے ہیں۔

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے پروفیسر لینی ورٹینین کہتے ہیں:

“ہمیں اکثر یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ ہمیں کتنی خوراک کی ضرورت ہے، اس لیے ہم بیرونی اشاروں پر انحصار کرتے ہیں جیسے پلیٹ کا سائز۔”

🧠 ہمارا دماغ کیسے متاثر ہوتا ہے؟

ماہرین کے مطابق انسان اکثر نہ بہت بھوکا ہوتا ہے اور نہ مکمل بھرا ہوا، بلکہ درمیان کی حالت میں ہوتا ہے۔ اسی وقت ماحول کے اشارے فیصلہ بدل دیتے ہیں۔

بڑی پلیٹ، بڑی بوتل یا زیادہ مقدار دیکھ کر ہم غیر محسوس طریقے سے زیادہ کھا لیتے ہیں۔

🍽️ کیا چھوٹی پلیٹ واقعی حل ہے؟

پہلے یہ خیال تھا کہ چھوٹی پلیٹ استعمال کرنے سے انسان کم کھاتا ہے، لیکن نئی تحقیق کے مطابق اصل مسئلہ پلیٹ نہیں بلکہ کھانے کی دستیابی ہے۔

اگر کھانا میز پر موجود ہو تو لوگ بار بار اپنی پلیٹ بھر لیتے ہیں، چاہے پلیٹ چھوٹی ہو یا بڑی۔

اسی لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں:

✔ ایک بار کھانا نکالیں

✔ باقی کھانا دور رکھیں

✔ بار بار سرو کرنے سے گریز کریں

📦 لیبل پڑھنا کیوں ضروری ہے؟

ماہرین کے مطابق فوڈ پیکجنگ پر لکھے ہوئے "سرونگ سائز" اکثر حقیقت سے کم ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے لوگ سوچتے ہیں کہ وہ کم کھا رہے ہیں، جبکہ اصل میں وہ زیادہ کھا چکے ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق لوگ بعض اوقات یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایک سرونگ کھائی ہے، لیکن حقیقت میں وہ اس سے دو سے تین گنا زیادہ کھا لیتے ہیں۔

🥗 اصل مسئلہ کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف خوراک نہیں بلکہ ہماری عادتیں ہیں۔

اگر ہم اپنی بھوک کو سمجھیں، لیبل پڑھیں اور کھانے کے سائز کا شعور رکھیں تو غیر ضروری کیلوریز سے بچا جا سکتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ آج کے دور میں زیادہ کھانا ہمیشہ زیادہ بھوک کی علامت نہیں ہوتا، بلکہ اکثر یہ ماحول اور مارکیٹنگ کا نتیجہ ہوتا ہے۔

شیئر کریں:

مزید پڑھیں

App

Learn English in Urdu

★★★★☆ (1M+ Downloads)

OPEN APP