ممبئی میں افسوسناک واقعہ
انڈیا کے شہر ممبئی میں مبینہ طور پر تربوز کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے چار افراد کی ہلاکت کا معاملہ تاحال معمہ بنا ہوا ہے۔ پولیس اور فرانزک ماہرین کئی ہفتوں بعد بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زہریلا کیمیکل تربوز میں کیسے پہنچا۔
متاثرہ خاندان میں میاں بیوی اور ان کی دو بیٹیاں شامل تھیں، جو 25 اپریل کو اپنے گھر میں مردہ پائے گئے تھے۔
فرانزک رپورٹ میں کیا انکشاف ہوا؟
فرانزک رپورٹ کے مطابق مرنے والوں کے جسمانی نمونوں اور تربوز کے باقیات میں زنک فاسفائیڈ نامی زہریلا کیمیکل پایا گیا۔
زنک فاسفائیڈ ایک خطرناک چوہا مار دوا ہے، جو جسم میں داخل ہونے کے بعد زہریلی گیس پیدا کرتی ہے اور دل، جگر اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
پولیس تاحال الجھن کا شکار
پولیس حکام کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ زہر حادثاتی طور پر تربوز میں شامل ہوا یا اس کے پیچھے کوئی مجرمانہ کارروائی تھی۔
تفتیشی ٹیم نے درجنوں افراد سے پوچھ گچھ کی ہے جبکہ قتل، خودکشی اور حادثاتی موت سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد خوف و ہراس
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر تربوز اور گرمیوں کے پھلوں سے متعلق مختلف افواہیں گردش کرنے لگیں، جس سے بعض علاقوں میں تربوز کی فروخت بھی متاثر ہوئی۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں پھل استعمال کرتے وقت صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور کٹے ہوئے پھل غیر محفوظ جگہوں سے خریدنے سے گریز کرنا چاہیے۔
ماہرین کی اہم وضاحت
ماہرین کے مطابق عام حالات میں تربوز خود خطرناک نہیں ہوتا، تاہم آلودہ چھری، غیر محفوظ اسٹوریج یا زہریلے کیمیکلز کے استعمال سے صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔