امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نوجوانوں میں رات گئے تک اسمارٹ فون استعمال کرنے کی عادت نیند کے معیار کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
University of California کے محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں نوجوان آدھی رات کے بعد بھی موبائل فون استعمال کرتے رہتے ہیں، جس کے باعث ان کی نیند کا دورانیہ اور معیار متاثر ہوتا ہے۔
تحقیق میں 657 نوجوانوں کو شامل کیا گیا جبکہ ایک خصوصی فون ٹریکنگ ایپ کے ذریعے ان کے اسمارٹ فون استعمال کرنے کی عادات کا جائزہ لیا گیا۔
محققین نے دریافت کیا کہ تقریباً 52 فیصد نوجوان رات 12 بجے سے صبح 4 بجے کے درمیان بھی فون پر سرگرم رہتے ہیں، حالانکہ یہ وقت جسم اور دماغ کے آرام کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق نوجوان زیادہ تر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے Instagram، TikTok اور YouTube استعمال کرتے رہے۔ اوسطاً نوجوان رات 10 بجے سے صبح 6 بجے کے درمیان 50 منٹ سے زائد وقت موبائل فون پر گزارتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق رات گئے فون استعمال کرنے کی بڑی وجوہات میں مسلسل آنے والے نوٹیفکیشنز، بے خوابی یا نیند کے دوران بار بار جاگنے کے بعد فون چیک کرنے کی عادت شامل ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ سوشل میڈیا کا مسلسل بدلتا ہوا مواد نوجوانوں کے دماغ کو متحرک رکھتا ہے، جس کے باعث سونے میں دشواری پیدا ہوتی ہے اور ذہنی سکون متاثر ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق بیشتر نوجوان بستر پر لیٹے ہوئے فون یا دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز استعمال کرتے ہوئے ہی سو جاتے ہیں، جو نیند کی صحت کے لیے نقصان دہ عادت سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا کہ بہتر نیند کے لیے سونے سے کم از کم کچھ وقت پہلے موبائل فون اور دیگر اسکرینز کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔
یہ تحقیق طبی جریدے JAMA Pediatrics میں شائع کی گئی۔