شہریوں کی زندگی خطرے میں! پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ 1 لاکھ 35 ہزار اموات
پاکستان میں فضائی آلودگی تیزی سے سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جہاں ہر سال تقریباً ایک لاکھ 35 ہزار افراد زہریلی ہوا اور اسموگ کے باعث قبل از وقت موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی نے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں اس تشویشناک صورتحال سے آگاہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کے خطرناک ذرات، خصوصاً PM2.5، دل، پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی شہریوں کی اوسط عمر میں تقریباً 2 سال 7 ماہ کی کمی واقع ہو رہی ہے۔ لاہور اور اس کے گرد و نواح کو شدید اسموگ کا مرکز قرار دیا گیا ہے جہاں سردیوں میں صورتحال مزید خطرناک ہو جاتی ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ 2030 تک پاکستان کی شہری آبادی 120 ملین تک پہنچ سکتی ہے، جس سے آلودگی اور صحت کے مسائل مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر حکومت نے “قومی کلین ایئر پالیسی 2023” کے تحت دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، فیکٹریوں اور فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف اقدامات تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مختصر تجزیہ
ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان میں ایک بڑا صحتِ عامہ بحران بن چکی ہے۔ اگر بروقت سخت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں بیماریوں، اموات اور معاشی نقصان میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔