عیدالاضحیٰ کے دوران قربانی کے گوشت کو محفوظ رکھنا اکثر گھروں میں ایک اہم مسئلہ بن جاتا ہے، خاص طور پر گرمی کے موسم میں جب گوشت جلد خراب ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق اگر گوشت کو درست درجہ حرارت اور مناسب طریقے سے محفوظ کیا جائے تو اسے کئی ماہ تک قابلِ استعمال رکھا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ گوشت کو جلد از جلد فریج یا فریزر میں منتقل کرنا ضروری ہے۔ عام ریفریجریٹر میں رکھا گیا کچا گوشت عموماً 2 سے 3 دن تک محفوظ رہتا ہے، جبکہ فریزر میں منفی 18 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم درجہ حرارت پر اسے کئی ماہ تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
گوشت محفوظ کرنے کے لیے اسے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے ائیر ٹائٹ بیگز یا فریزر کنٹینرز میں رکھنا زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہوا کے زیادہ رابطے سے گوشت کا ذائقہ اور معیار متاثر ہو سکتا ہے۔
ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ گوشت کو فریز کرنے سے پہلے اضافی چربی اور غیر ضروری ہڈیاں الگ کر دی جائیں تاکہ ذخیرہ کرنے میں آسانی رہے اور جگہ بھی کم استعمال ہو۔
اگر بجلی کی بندش یا فریزر دستیاب نہ ہونے کی صورت ہو تو برف والے کولر کو عارضی متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں گوشت کو برف کی تہہ کے درمیان رکھا جاتا ہے اور کولر کو بند رکھا جاتا ہے تاکہ ٹھنڈک برقرار رہے۔
قدیم طریقوں میں نمک لگا کر گوشت محفوظ کرنا بھی شامل ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ طریقہ صرف محدود مدت کے لیے مفید ہے اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر مکمل توجہ دینا ضروری ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر گوشت سے بدبو آنے لگے، رنگ تبدیل ہو جائے یا اس کی سطح چپچپی محسوس ہو تو اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ خراب ہونے کی علامت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق قربانی کے گوشت کو محفوظ رکھنے کے دوران صفائی، مناسب درجہ حرارت اور درست پیکنگ کا خیال رکھنا انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔