عیدالاضحیٰ کے موقع پر گھروں میں گوشت سے تیار ہونے والے مختلف پکوان خصوصی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں، تاہم ماہرینِ صحت خبردار کرتے ہیں کہ گرمیوں میں زیادہ مقدار میں گوشت کھانے سے معدے، جگر اور نظامِ ہاضمہ پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق روایتی دیسی مصالحوں کا متوازن استعمال نہ صرف ہاضمہ بہتر بناتا ہے بلکہ جسم کو موسمی بیماریوں سے بچانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہلدی، ادرک اور لہسن میں قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس اور جراثیم کش خصوصیات پائی جاتی ہیں، اسی لیے انہیں گوشت کے پکوانوں میں شامل کرنا مفید سمجھا جاتا ہے۔ ادرک اور لہسن ہاضمہ بہتر بنانے جبکہ ہلدی جسمانی سوزش کم کرنے میں معاون مانی جاتی ہے۔
کالی مرچ کو بھی گوشت کے ساتھ مفید مصالحہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہ کھانے کے بھاری پن کو کم کرنے اور ہاضمے کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اسی طرح زیرہ اور سونف روایتی طور پر معدے کی گیس، تیزابیت اور بدہضمی کم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دار چینی اور چھوٹی الائچی قہوے یا گرم مشروبات میں شامل کی جائیں تو یہ کھانے کے بعد معدے کو سکون دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان مصالحوں کو علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ متوازن غذا اور احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔
کلونجی، لونگ اور میتھی دانہ بھی روایتی طب میں اہم سمجھے جاتے ہیں، تاہم ان کے فوائد سے متعلق سائنسی شواہد محدود ہیں۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ مصالحوں کا استعمال اعتدال میں رکھا جائے کیونکہ ضرورت سے زیادہ مقدار بعض افراد میں معدے کی جلن یا دیگر مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ عید کے دنوں میں زیادہ پانی پینا، سبزیاں اور سلاد استعمال کرنا، اور چکنائی والی غذاؤں میں اعتدال رکھنا صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔