عیدالاضحیٰ کے بعد گھروں میں قربانی کا گوشت بڑی مقدار میں فریزر میں محفوظ کیا جاتا ہے، تاہم بعد میں اسے جلدی اور محفوظ طریقے سے پگھلانا اکثر لوگوں کے لیے مشکل بن جاتا ہے۔ ماہرینِ غذائیت اور فوڈ سیفٹی اداروں کے مطابق گوشت کو غلط طریقے سے ڈیفروسٹ کرنا بیکٹیریا کی افزائش اور صحت کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ منجمد گوشت کو کمرے کے درجہ حرارت پر زیادہ دیر رکھنے سے جراثیم تیزی سے بڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر گرمی کے موسم میں۔ اسی لیے گوشت پگھلانے کے محفوظ طریقے اپنانا ضروری ہے۔
فوڈ سیفٹی ماہرین کے مطابق ٹھنڈے پانی کے ذریعے گوشت پگھلانا نسبتاً تیز اور محفوظ طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے گوشت کو اچھی طرح بند پلاسٹک بیگ میں رکھ کر ٹھنڈے پانی میں ڈبویا جاتا ہے جبکہ ہر 20 سے 30 منٹ بعد پانی تبدیل کرنا بہتر ہوتا ہے۔ چھوٹے ٹکڑے عموماً ایک سے دو گھنٹوں میں نرم ہو سکتے ہیں۔
ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ گوشت کو فریز کرتے وقت چھوٹے اور پتلے پیکٹس میں محفوظ کیا جائے تاکہ بعد میں اسے جلدی ڈیفروسٹ کیا جا سکے۔ موٹے اور بڑے ٹکڑوں کے مقابلے میں پتلی تہہ میں رکھا گیا گوشت زیادہ تیزی سے پگھلتا ہے۔
مائیکرو ویو میں موجود “ڈیفروسٹ” آپشن بھی فوری ضرورت کے وقت استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق مائیکرو ویو میں پگھلائے گئے گوشت کو فوراً پکانا چاہیے کیونکہ بعض حصے جزوی طور پر پکنا شروع ہو جاتے ہیں۔
بعض لوگ دھاتی برتنوں کے ذریعے بھی چھوٹے گوشت کے ٹکڑے جلد نرم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اس طریقے کو محدود حد تک اور احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔
فوڈ سیفٹی ماہرین کے مطابق سب سے محفوظ طریقہ اب بھی یہی ہے کہ گوشت کو فریج کے نچلے حصے میں آہستہ آہستہ پگھلنے دیا جائے، کیونکہ اس سے درجہ حرارت محفوظ سطح پر برقرار رہتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر گوشت کو کمرے کے درجہ حرارت پر کئی گھنٹے رکھا گیا ہو یا گرم پانی میں پگھلایا گیا ہو تو اسے دوبارہ فریز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے بیکٹیریا بڑھنے اور خوراک خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عید کی مصروفیات میں مناسب فوڈ سیفٹی اصول اپنانے سے نہ صرف وقت کی بچت ممکن ہے بلکہ صحت کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔