تمام تر تنقید اور سنگین الزامات کے باوجود مائیکل جیکسن پر بننے والی نئی سوانحی فلم نے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی ہے، جو ایک بار پھر یہ ثابت کرتی ہے کہ دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگ اب بھی ان پر لگنے والے جنسی زیادتی کے الزامات کو نظر انداز کرنے یا مسترد کرنے کے لیے تیار ہیں۔
فلم کی ریلیز کے بعد سامنے آنے والے ردعمل نے واضح کیا ہے کہ مائیکل جیکسن کی عوامی شبیہ اب بھی بہت سے ناظرین کے لیے ان الزامات سے زیادہ طاقتور ہے، اور لوگ ان کے فن اور ذاتی زندگی کے درمیان فرق کرنے یا متنازع پہلوؤں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے پر آمادہ ہیں۔
اگرچہ فلمی ناقدین نے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، تاہم باکس آفس پر اس کی آمدنی اور عوامی پذیرائی اس کے برعکس کہانی بیان کرتی ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق فلم نے عالمی سطح پر تقریباً 217 ملین ڈالر کمائے ہیں، جبکہ ناظرین کی جانب سے اسے A- ریٹنگ دی گئی ہے۔
دوسری جانب فلمی تجزیاتی ویب سائٹس پر ناقدین اور عام ناظرین کے درمیان واضح فرق دیکھا گیا ہے، جہاں ناقدین کی جانب سے اسے کم اسکور دیا گیا، جبکہ مداحوں کی اکثریت نے اسے بھرپور حمایت فراہم کی ہے۔
یہ فلم مائیکل جیکسن کی زندگی کو ایک مثبت اور صاف تصویر کے طور پر پیش کرتی ہے، جس میں ان کی موسیقی، عالمی شہرت اور انسانی ہمدردی کے پہلوؤں پر زیادہ توجہ دی گئی ہے، جبکہ ان کی زندگی کے متنازع اور تاریک پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
فلم میں ان کے بچپن، والد کے ساتھ تعلقات، موسیقی کی کامیابی، مشہور البم “تھرلر” اور عالمی اسٹیج پر پرفارمنس کو نمایاں کیا گیا ہے، جس سے انہیں ایک بے مثال فنکار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
تاہم فلم 1988 تک کی زندگی تک محدود ہے، جس کے باعث بعد کی متنازع زندگی، الزامات اور عدالتی مقدمات کو شامل نہیں کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق یہی پہلو فلم کو غیر متوازن اور یکطرفہ بناتا ہے۔
موسیقی اور پاپ کلچر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیکل جیکسن کی مقبولیت ان کی موسیقی کی طاقت اور عالمی اثر کی وجہ سے آج بھی برقرار ہے، جبکہ نئی نسل ان کے خلاف ماضی کے تنازعات سے نسبتاً کم واقف ہے۔
اسی وجہ سے وہ آج بھی عالمی سطح پر ایک ایسے فنکار کے طور پر موجود ہیں جنہیں مکمل طور پر “کینسل” کرنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے، اور ان کا فن اب بھی بڑے پیمانے پر سنا اور پسند کیا جاتا ہے۔
تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی فلمیں ان کے بارے میں ایک سادہ اور یک رخا بیانیہ تشکیل دیتی ہیں، جو نہ صرف پیچیدہ حقیقت کو نظر انداز کرتی ہیں بلکہ اخلاقی سوالات کو بھی پسِ پشت ڈال دیتی ہیں۔
اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا کسی فنکار کے فن کو اس کی ذاتی زندگی سے الگ رکھا جا سکتا ہے یا نہیں، اور کیا ماضی کے متنازع فنکاروں کو مکمل طور پر معاف کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔