Ad Blocker Detected

We rely on ads to keep our content free. Please whitelist this site in your ad blocker, then refresh to continue reading.

How to whitelist this site

  1. Click your ad blocker icon in the browser toolbar.
  2. Find "Whitelist this site" or "Disable on this page".
  3. Click the button below and we'll verify automatically.
⏳ Verifying, please wait…
❌ Ad blocker still active. Please whitelist this site and try again.
✅ All good! Reloading…
|
اردوپیور NEWS
لائیو
تازہ ترین
انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ | انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ |

مائیکل جیکسن کی میراث کیسے مضبوط اور پائیدار بنی رہی؟

تمام تر تنقید اور سنگین الزامات کے باوجود مائیکل جیکسن پر بننے والی نئی سوانحی فلم نے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔

Admin 05 May 2026 1 منٹ پڑھیں 63

تمام تر تنقید اور سنگین الزامات کے باوجود مائیکل جیکسن پر بننے والی نئی سوانحی فلم نے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی ہے، جو ایک بار پھر یہ ثابت کرتی ہے کہ دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگ اب بھی ان پر لگنے والے جنسی زیادتی کے الزامات کو نظر انداز کرنے یا مسترد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

فلم کی ریلیز کے بعد سامنے آنے والے ردعمل نے واضح کیا ہے کہ مائیکل جیکسن کی عوامی شبیہ اب بھی بہت سے ناظرین کے لیے ان الزامات سے زیادہ طاقتور ہے، اور لوگ ان کے فن اور ذاتی زندگی کے درمیان فرق کرنے یا متنازع پہلوؤں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے پر آمادہ ہیں۔

اگرچہ فلمی ناقدین نے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، تاہم باکس آفس پر اس کی آمدنی اور عوامی پذیرائی اس کے برعکس کہانی بیان کرتی ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق فلم نے عالمی سطح پر تقریباً 217 ملین ڈالر کمائے ہیں، جبکہ ناظرین کی جانب سے اسے A- ریٹنگ دی گئی ہے۔

دوسری جانب فلمی تجزیاتی ویب سائٹس پر ناقدین اور عام ناظرین کے درمیان واضح فرق دیکھا گیا ہے، جہاں ناقدین کی جانب سے اسے کم اسکور دیا گیا، جبکہ مداحوں کی اکثریت نے اسے بھرپور حمایت فراہم کی ہے۔

یہ فلم مائیکل جیکسن کی زندگی کو ایک مثبت اور صاف تصویر کے طور پر پیش کرتی ہے، جس میں ان کی موسیقی، عالمی شہرت اور انسانی ہمدردی کے پہلوؤں پر زیادہ توجہ دی گئی ہے، جبکہ ان کی زندگی کے متنازع اور تاریک پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

فلم میں ان کے بچپن، والد کے ساتھ تعلقات، موسیقی کی کامیابی، مشہور البم “تھرلر” اور عالمی اسٹیج پر پرفارمنس کو نمایاں کیا گیا ہے، جس سے انہیں ایک بے مثال فنکار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

تاہم فلم 1988 تک کی زندگی تک محدود ہے، جس کے باعث بعد کی متنازع زندگی، الزامات اور عدالتی مقدمات کو شامل نہیں کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق یہی پہلو فلم کو غیر متوازن اور یکطرفہ بناتا ہے۔

موسیقی اور پاپ کلچر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیکل جیکسن کی مقبولیت ان کی موسیقی کی طاقت اور عالمی اثر کی وجہ سے آج بھی برقرار ہے، جبکہ نئی نسل ان کے خلاف ماضی کے تنازعات سے نسبتاً کم واقف ہے۔

اسی وجہ سے وہ آج بھی عالمی سطح پر ایک ایسے فنکار کے طور پر موجود ہیں جنہیں مکمل طور پر “کینسل” کرنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے، اور ان کا فن اب بھی بڑے پیمانے پر سنا اور پسند کیا جاتا ہے۔

تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی فلمیں ان کے بارے میں ایک سادہ اور یک رخا بیانیہ تشکیل دیتی ہیں، جو نہ صرف پیچیدہ حقیقت کو نظر انداز کرتی ہیں بلکہ اخلاقی سوالات کو بھی پسِ پشت ڈال دیتی ہیں۔

اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا کسی فنکار کے فن کو اس کی ذاتی زندگی سے الگ رکھا جا سکتا ہے یا نہیں، اور کیا ماضی کے متنازع فنکاروں کو مکمل طور پر معاف کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

شیئر کریں:

مزید پڑھیں

App

Learn English in Urdu

★★★★☆ (1M+ Downloads)

OPEN APP