پی سی او ایس کیا ہے اور اس کا نام کیوں بدلا جا رہا ہے؟ نئی تحقیق میں اہم انکشافات
دنیا بھر میں لاکھوں خواتین کو متاثر کرنے والی بیماری پولی سسٹک اوورین سنڈروم (PCOS) کے بارے میں نئی طبی تحقیق نے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کا موجودہ نام گمراہ کن ہے کیونکہ یہ صرف بیضہ دانی تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ پورے جسم کے ہارمونز، میٹابولزم اور انسولین کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔
اسی وجہ سے عالمی ماہرین اب اس بیماری کا نام بدل کر “پولی اینڈوکرائن میٹابولک اووریئن سنڈروم” (PMOS) رکھنے کی تجویز دے رہے ہیں تاکہ اس کی اصل نوعیت بہتر انداز میں واضح ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق پی سی او ایس کی عام علامات میں بے قاعدہ ماہواری، وزن میں اضافہ، چہرے پر زائد بال، مہاسے، جلد کا سیاہ پڑنا، ہارمونز میں بگاڑ اور حاملہ ہونے میں مشکلات شامل ہیں۔ تاہم بہت سی خواتین میں اووری میں رسولیاں موجود نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے بیماری کی تشخیص اکثر تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 10 سے 13 فیصد خواتین اس مسئلے کا شکار ہیں جبکہ 70 فیصد کیسز کی بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی۔ جنوبی ایشیا میں صورتحال مزید سنگین سمجھی جاتی ہے جہاں ہر دس میں سے ایک خاتون متاثر ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں بعض طبی تحقیقات کے مطابق شہری علاقوں کی نوجوان خواتین میں پی سی او ایس کی شرح تشویشناک حد تک زیادہ دیکھی گئی ہے، لیکن اکثر خواتین اس وقت ڈاکٹر سے رجوع کرتی ہیں جب بانجھ پن یا تولیدی مسائل سامنے آتے ہیں۔
کراچی کی ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر انعم عزیز کے مطابق اس بیماری کو صرف بانجھ پن یا اووری کے مسئلے کے طور پر دیکھنا درست نہیں کیونکہ یہ ذیابیطس، موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، نیند کی خرابی اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل سے بھی جڑی ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق پی سی او ایس کی شکار خواتین میں ڈپریشن، اضطراب اور جذباتی دباؤ کی شرح بھی زیادہ پائی جاتی ہے، خصوصاً جنوبی ایشیا جیسے معاشروں میں جہاں شادی اور اولاد سے متعلق سماجی دباؤ زیادہ ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، بہتر نیند اور ذہنی دباؤ میں کمی اس بیماری کے اثرات کو کافی حد تک کم کر سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اگرچہ نام کی تبدیلی ایک اہم قدم ہو سکتا ہے، لیکن اصل ضرورت عوامی آگاہی بڑھانے اور خواتین کو ابتدائی علامات کے بارے میں تعلیم دینے کی ہے تاکہ بیماری کو وقت پر قابو کیا جا سکے۔