پاکستان کے دو بڑے شہروں کراچی اور لاہور کے کھانوں پر سوشل میڈیا پر ایک بار پھر دلچسپ بحث چھڑ گئی ہے، جس میں عام صارفین کے ساتھ سابق کرکٹرز، سیاست دان اور فوڈ وی لاگرز بھی کود پڑے ہیں۔
یہ بحث اُس وقت مزید گرم ہو گئی جب پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے ایک ویڈیو بیان میں کراچی کے کھانوں کی ورائٹی اور ذائقے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کے مقابلے میں کراچی میں زیادہ متنوع کھانے دستیاب ہیں۔
وسیم اکرم نے کہا کہ وہ 42 برس لاہور میں گزارنے کے باوجود اب کراچی کے کھانوں کے زیادہ معترف ہیں۔ اُن کے مطابق کراچی میں مختلف ثقافتوں کے ذائقے ایک ہی شہر میں مل جاتے ہیں جبکہ لاہور کے کئی مشہور کھانے ضرورت سے زیادہ مصالحے دار محسوس ہوتے ہیں۔
سابق کپتان نے لاہور کے چند مشہور مقامات جیسے نہاری اور پائے کا ذکر بھی کیا، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ کراچی میں بریانی، کباب، حلیم اور دیگر روایتی کھانوں کی ورائٹی زیادہ وسیع ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے بھی اپنی اپنی پسند کا اظہار کیا۔ کچھ افراد نے کراچی کی بریانی، نہاری اور کباب کو بہترین قرار دیا جبکہ کئی صارفین نے لاہور کے چھولے، بونگ، کنہ گوشت اور آلو گوشت کو لاجواب بتایا۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے لاہور کے کھانوں کی تاریخی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لاہور کی فوڈ کلچر صدیوں پر محیط روایت رکھتی ہے، جبکہ کراچی کے کھانے مختلف علاقوں کے ذائقوں کا امتزاج ہیں۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ہارون نے کراچی کو پاکستان کا حقیقی “فوڈ کیپٹل” قرار دیا۔
سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے اس بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اہم مسائل کی موجودگی میں کھانوں پر بحث غیر ضروری ہے اور لوگوں کو اپنی پسند کے مطابق کھانوں سے لطف اندوز ہونے دینا چاہیے۔
سینئر اینکر اور فوڈ وی لاگر محسن بھٹی کے مطابق دونوں شہروں کے کھانوں کا موازنہ درست نہیں کیونکہ ہر شہر کی اپنی منفرد ڈشز اور ثقافتی شناخت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کراچی کی بریانی اور بہاری بوٹی اپنی مثال آپ ہیں جبکہ لاہور کا آلو گوشت، لکشمی چوک کی کڑاہی اور کنہ گوشت الگ مقام رکھتے ہیں۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے فوڈ وی لاگر بابر ڈار نے بھی کراچی کے کھانوں کی ورائٹی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ شہر مختلف قومیتوں کے ذائقوں کا مرکز بن چکا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری یہ دلچسپ بحث تاحال ختم نہیں ہو سکی اور بظاہر کراچی اور لاہور کے کھانوں کے چاہنے والے اپنے اپنے شہر کے ذائقوں کا دفاع کرتے رہیں گے۔