Ad Blocker Detected

We rely on ads to keep our content free. Please whitelist this site in your ad blocker, then refresh to continue reading.

How to whitelist this site

  1. Click your ad blocker icon in the browser toolbar.
  2. Find "Whitelist this site" or "Disable on this page".
  3. Click the button below and we'll verify automatically.
⏳ Verifying, please wait…
❌ Ad blocker still active. Please whitelist this site and try again.
✅ All good! Reloading…
|
اردوپیور NEWS
لائیو
تازہ ترین
انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ | انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ |

ہنٹا وائرس کیا ہے اور اس سے موت کتنی دیر میں ہو سکتی ہے؟

ہنٹا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد مریض کتنی دیر میں جان کی بازی ہار سکتا ہے؟ بحری جہاز پر پھیلنے والی خطرناک وبا، علامات، پھیلاؤ اور طبی ماہرین کی وارننگ جانیے۔

javaid 07 May 2026 1 منٹ پڑھیں 81

کیپ وردے کے قریب بحرِ اوقیانوس میں موجود ایک پرتعیش بحری جہاز پر سوار مسافروں کے لیے تفریحی سفر خوفناک طبی بحران میں تبدیل ہو گیا ہے، جہاں نایاب ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ نے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

ایم وی ہونڈیئس نامی جہاز، جو گزشتہ ماہ ارجنٹائن سے روانہ ہوا تھا، اس وقت سمندر میں ایک غیرمعمولی صورتحال سے دوچار ہے۔ جہاز پر موجود تقریباً 150 افراد میں اب تک ہنٹا وائرس کے سات کیسز سامنے آ چکے ہیں، جبکہ تین افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ایک مریض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس ایک خطرناک بیماری ہے جو عموماً چوہوں کے ذریعے انسانوں تک منتقل ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وائرس کے انسان سے انسان میں منتقلی کے امکانات محدود ہیں، تاہم اس خدشے کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرین کے مطابق وائرس عموماً چوہوں کے پیشاب، فضلے یا تھوک میں موجود باریک ذرات کے ذریعے فضا میں شامل ہو کر انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ بند کمروں، اسٹور رومز یا غیر استعمال شدہ مقامات پر یہ خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے جہاں متاثرہ ذرات ہوا میں موجود ہوں۔

ہنٹا وائرس کی سب سے خطرناک بات اس کی خاموشی سے پھیلنے کی صلاحیت ہے۔ انفیکشن کے بعد علامات ظاہر ہونے میں ایک سے آٹھ ہفتے لگ سکتے ہیں، اور اس دوران وائرس جسم میں تیزی سے اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔

ابتدائی علامات عام فلو یا وائرل انفیکشن جیسی محسوس ہوتی ہیں جن میں بخار، جسم درد، سر درد اور معدے کی تکلیف شامل ہیں۔ لیکن چند دن بعد صورتحال سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے جب پھیپھڑوں میں سیال بھرنا شروع ہو جاتا ہے اور مریض کو سانس لینے میں شدید دشواری پیش آتی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بیماری کے کارڈیوپلمونری مرحلے میں داخل ہونے کے بعد مریض کی حالت بہت تیزی سے بگڑ سکتی ہے، اور اگر فوری طبی امداد نہ ملے تو 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر موت واقع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہنٹا وائرس کے خلاف فی الحال کوئی مخصوص دوا یا ویکسین دستیاب نہیں۔ مریضوں کو آئی سی یو میں رکھ کر آکسیجن سپورٹ، بلڈ پریشر کنٹرول اور دیگر معاون علاج فراہم کیا جاتا ہے تاکہ جسم وائرس کا مقابلہ کر سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری دراصل انسانی مدافعتی نظام اور وائرس کے درمیان ایک سخت جنگ بن جاتی ہے، جہاں بروقت طبی امداد ہی مریض کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ایم وی ہونڈیئس پر موجود مسافر اس وقت شدید خوف اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ عالمی سفر کے بڑھتے رجحان کے باعث دور دراز علاقوں میں پائے جانے والے خطرناک وائرس بھی اب تیزی سے دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

صحت یاب ہونے والے افراد کو بھی مکمل بحالی کے لیے کئی ہفتے درکار ہو سکتے ہیں، جبکہ بعض مریض طویل عرصے تک شدید تھکن اور کمزوری محسوس کرتے رہتے ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں اب اس بحری جہاز پر مرکوز ہیں جہاں وقت کے ساتھ زندگی کی جنگ جاری ہے۔

شیئر کریں:

مزید پڑھیں

App

Learn English in Urdu

★★★★☆ (1M+ Downloads)

OPEN APP