Ad Blocker Detected

We rely on ads to keep our content free. Please whitelist this site in your ad blocker, then refresh to continue reading.

How to whitelist this site

  1. Click your ad blocker icon in the browser toolbar.
  2. Find "Whitelist this site" or "Disable on this page".
  3. Click the button below and we'll verify automatically.
⏳ Verifying, please wait…
❌ Ad blocker still active. Please whitelist this site and try again.
✅ All good! Reloading…
|
اردوپیور NEWS
لائیو
تازہ ترین
انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ | انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ |

پاکستان میں پہلی بار بچوں کی آنکھوں کی موروثی بیماریوں کے لیے جینیاتی ڈیٹا بیس متعارف

الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال نے پاکستان میں بچوں کی آنکھوں کی موروثی بیماریوں کے لیے پہلا جینیاتی ڈیٹا بیس متعارف کرایا ہے، جو بروقت تشخیص، علاج اور بین الاقوامی جینومک تحقیق میں اہم پیش رفت ہے۔

javaid 30 May 2026 1 منٹ پڑھیں 105

پاکستان میں پہلی بار بچوں کی آنکھوں کی موروثی بیماریوں کے لیے جینیاتی ڈیٹا بیس متعارف

الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال نے پاکستان میں بچوں کی آنکھوں کی موروثی بیماریوں کی تشخیص اور روک تھام کے لیے پہلا خصوصی جینیاتی ڈیٹا بیس متعارف کرا دیا ہے۔ اس اقدام کو ملک میں امراض چشم کے شعبے میں ایک اہم سائنسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ ڈیٹا بیس ہسپتال کے شعبہ آپتھالمک جینیٹکس نے ماہر جینیات ڈاکٹر رُطابہ گل اور سینئر بایو انفارمیٹیشن ماہر ابوبکر کی نگرانی میں تیار کیا ہے۔ اس میں موروثی ریٹینل بیماریوں، پیدائشی موتیے (Congenital Cataract)، گلوکوما اور قرنیہ کی جینیاتی خرابیوں سے متعلق تفصیلی ڈیٹا محفوظ کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد علاج میں موجود ایک اہم خلا کو پر کرنا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر دستیاب جینیاتی ڈیٹا زیادہ تر یورپی اور مشرقی ایشیائی آبادیوں پر مبنی ہے، جو جنوبی ایشیائی جینیاتی ساخت کی مکمل نمائندگی نہیں کرتا۔

پاکستان میں قریبی رشتہ داروں میں شادیوں کے نسبتاً زیادہ رجحان کے باعث موروثی امراضِ چشم کا بوجھ بھی زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ اسی پس منظر میں جینیاتی اسکریننگ اور مقامی ڈیٹا بیس کی تیاری کو ایک اہم طبی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔

الشفا ٹرسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بچوں کی نابینائی کے تقریباً 40 سے 60 فیصد کیسز موروثی یا پیدائشی بیماریوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت جینیاتی تشخیص سے خطرے سے دوچار بچوں کی جلد نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے، جس سے علاج کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

جنوری 2025 میں قائم کی گئی الشفا ٹرسٹ کی آپتھالمک جینیٹکس لیبارٹری نے اب تک ملک بھر کے تقریباً 150 مریضوں کے مفت جینیاتی ٹیسٹ مکمل کیے ہیں۔ ان ٹیسٹس کے ذریعے اب تک 45 مختلف جینیاتی آنکھوں کی بیماریوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔

واضح رہے کہ نجی شعبے میں جینیاتی ٹیسٹ کی لاگت بعض اوقات ایک لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے، جس کے باعث کئی مریض اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔

الشفا ٹرسٹ کے صدر میجر جنرل (ر) رحمت خان کے مطابق ادارہ اس پروگرام کو مزید وسعت دے کر ایک قومی سطح کے جامع جینیاتی ڈیٹا بیس میں تبدیل کرنے اور اپنے ہسپتال نیٹ ورک میں اسکریننگ سہولیات کو وسعت دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔

ڈاکٹر رُطابہ گل کے مطابق یہ ڈیٹا بیس نہ صرف پاکستان میں آنکھوں کی بیماریوں کی بہتر تشخیص میں مدد دے گا بلکہ مستقبل میں قابلِ تدارک نابینائی میں کمی، علاج کے اخراجات میں بچت اور متاثرہ بچوں کے لیے بہتر تعلیمی و سماجی مواقع پیدا کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدام عالمی جینومک تحقیق میں پاکستان کے کردار کو بھی مضبوط بنائے گا۔

شیئر کریں:

مزید پڑھیں

App

Learn English in Urdu

★★★★☆ (1M+ Downloads)

OPEN APP