پاکستان میں پہلی بار بچوں کی آنکھوں کی موروثی بیماریوں کے لیے جینیاتی ڈیٹا بیس متعارف
الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال نے پاکستان میں بچوں کی آنکھوں کی موروثی بیماریوں کی تشخیص اور روک تھام کے لیے پہلا خصوصی جینیاتی ڈیٹا بیس متعارف کرا دیا ہے۔ اس اقدام کو ملک میں امراض چشم کے شعبے میں ایک اہم سائنسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ ڈیٹا بیس ہسپتال کے شعبہ آپتھالمک جینیٹکس نے ماہر جینیات ڈاکٹر رُطابہ گل اور سینئر بایو انفارمیٹیشن ماہر ابوبکر کی نگرانی میں تیار کیا ہے۔ اس میں موروثی ریٹینل بیماریوں، پیدائشی موتیے (Congenital Cataract)، گلوکوما اور قرنیہ کی جینیاتی خرابیوں سے متعلق تفصیلی ڈیٹا محفوظ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد علاج میں موجود ایک اہم خلا کو پر کرنا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر دستیاب جینیاتی ڈیٹا زیادہ تر یورپی اور مشرقی ایشیائی آبادیوں پر مبنی ہے، جو جنوبی ایشیائی جینیاتی ساخت کی مکمل نمائندگی نہیں کرتا۔
پاکستان میں قریبی رشتہ داروں میں شادیوں کے نسبتاً زیادہ رجحان کے باعث موروثی امراضِ چشم کا بوجھ بھی زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ اسی پس منظر میں جینیاتی اسکریننگ اور مقامی ڈیٹا بیس کی تیاری کو ایک اہم طبی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔
الشفا ٹرسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بچوں کی نابینائی کے تقریباً 40 سے 60 فیصد کیسز موروثی یا پیدائشی بیماریوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت جینیاتی تشخیص سے خطرے سے دوچار بچوں کی جلد نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے، جس سے علاج کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
جنوری 2025 میں قائم کی گئی الشفا ٹرسٹ کی آپتھالمک جینیٹکس لیبارٹری نے اب تک ملک بھر کے تقریباً 150 مریضوں کے مفت جینیاتی ٹیسٹ مکمل کیے ہیں۔ ان ٹیسٹس کے ذریعے اب تک 45 مختلف جینیاتی آنکھوں کی بیماریوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔
واضح رہے کہ نجی شعبے میں جینیاتی ٹیسٹ کی لاگت بعض اوقات ایک لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے، جس کے باعث کئی مریض اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔
الشفا ٹرسٹ کے صدر میجر جنرل (ر) رحمت خان کے مطابق ادارہ اس پروگرام کو مزید وسعت دے کر ایک قومی سطح کے جامع جینیاتی ڈیٹا بیس میں تبدیل کرنے اور اپنے ہسپتال نیٹ ورک میں اسکریننگ سہولیات کو وسعت دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔
ڈاکٹر رُطابہ گل کے مطابق یہ ڈیٹا بیس نہ صرف پاکستان میں آنکھوں کی بیماریوں کی بہتر تشخیص میں مدد دے گا بلکہ مستقبل میں قابلِ تدارک نابینائی میں کمی، علاج کے اخراجات میں بچت اور متاثرہ بچوں کے لیے بہتر تعلیمی و سماجی مواقع پیدا کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدام عالمی جینومک تحقیق میں پاکستان کے کردار کو بھی مضبوط بنائے گا۔