ہالی وڈ میں خوف پر مبنی فلموں کی کوئی کمی نہیں، مگر نئی فلم ’’بیک رومز‘‘ نے ثابت کر دیا ہے کہ بعض اوقات سب سے بڑا خوف کسی بھوت، چڑیل یا عفریت سے نہیں بلکہ ایک خالی کمرے سے بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ فلم ناظرین کو ایک ایسی پراسرار دنیا میں لے جاتی ہے جہاں لمبی ویران راہداریاں، زرد روشنیوں سے بھرے بے جان کمرے اور نہ ختم ہونے والے راستے انسان کے ذہن سے کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔
کہانی کلارک نامی ایک شخص کے گرد گھومتی ہے جو کبھی ماہرِ تعمیرات تھا، مگر اب فرنیچر کے ایک اسٹور کا مالک ہے۔ ایک دن اسے اپنے شوروم کے تہہ خانے میں ایک ایسا راستہ ملتا ہے جو ایک عجیب و غریب اور لامحدود کمروں کی دنیا میں جا نکلتا ہے۔
جب کلارک اپنی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر میری کلائن کو اس پراسرار دریافت کے بارے میں بتاتا ہے تو وہ صرف ایک مختصر جملہ کہتا ہے:
"مجھے ایک جگہ ملی ہے۔"
یہی سادہ سا جملہ پوری فلم کے خوف کی بنیاد بن جاتا ہے۔
فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں روایتی ہارر فلموں کی طرح اچانک ڈرانے والے مناظر یا خوفناک مخلوقات پر انحصار نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے ایک ایسی بے چینی پیدا کی گئی ہے جو ناظر کے ذہن میں آہستہ آہستہ سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔
’’بیک رومز‘‘ کی دنیا نہ مکمل طور پر آباد محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی ویران۔ ہر کمرہ پچھلے کمرے جیسا دکھائی دیتا ہے، ہر راہداری ایک نئی الجھن پیدا کرتی ہے اور ہر دروازہ ایک نئے راز کی طرف کھلتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کے ہدایت کار کین پارسنز کی عمر صرف 20 برس ہے۔ انہوں نے چند سال قبل انٹرنیٹ پر تھری ڈی اینی میشن کے ذریعے مختصر ویڈیوز بنائیں جو غیر معمولی طور پر مقبول ہوئیں، اور اب اسی تصور کو ایک بڑی فلم میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
کین پارسنز کے مطابق جدید دور کی یکساں طرز کی عمارتیں، دفاتر اور تجارتی مراکز انسان میں ایک عجیب قسم کی بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ یہی احساس فلم کی تخلیق کا بنیادی محرک بنا۔
فلم دراصل ایک بڑے سوال کے گرد گھومتی ہے: اگر آپ ایک ایسی جگہ میں پھنس جائیں جہاں ہر راستہ ایک جیسا ہو، ہر کمرہ دوسرے کمرے کی نقل ہو اور کوئی یہ نہ جانتا ہو کہ باہر نکلنے کا راستہ کہاں ہے، تو کیا ہوگا؟
فلسفی اور سماجی ماہرین بھی ایسی جگہوں پر برسوں سے تحقیق کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں جن کی نہ کوئی شناخت ہوتی ہے، نہ تاریخ اور نہ ہی انسانی تعلق۔ یہی مقامات انسان کے اندر بے چینی اور خوف پیدا کرتے ہیں۔
’’بیک رومز‘‘ اسی تصور کو پردۂ سیمیں پر زندہ کرتی ہے۔
فلم کے دوران کلارک اور ڈاکٹر میری اس پراسرار بھول بھلیاں میں مزید گہرائی تک جاتے ہیں، مگر جتنا آگے بڑھتے ہیں اتنے ہی زیادہ سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ان کمروں کو کون چلا رہا ہے؟ ان کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اور آخر ان کا اختتام کہاں ہے؟
شاید یہی وہ سوالات ہیں جو ’’بیک رومز‘‘ کو روایتی خوفناک فلموں سے مختلف بناتے ہیں۔
اگر آپ ایسی فلمیں پسند کرتے ہیں جو صرف چونکانے کے بجائے آپ کے ذہن کے ساتھ کھیلتی ہوں، تو ’’بیک رومز‘‘ ایک منفرد تجربہ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ فلم خوف کو نئی شکل دیتی ہے اور یاد دلاتی ہے کہ بعض اوقات سب سے ڈراؤنی چیز وہ ہوتی ہے جو بظاہر بالکل عام دکھائی دیتی ہے۔