سمندر کی تاریک اور پراسرار گہرائیوں میں رہنے والی عجیب الخلقت گوبلن شارک کی پہلی بار واضح ویڈیو ریکارڈ کر لی گئی ہے، جسے ماہرین سمندری حیات ایک اہم سائنسی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
گوبلن شارک اپنی لمبی چونچ نما ناک، پھیلے ہوئے جبڑوں اور خوفناک شکل و صورت کی وجہ سے دنیا کی سب سے بدصورت شارکوں میں شمار کی جاتی ہے۔ یہ نایاب مخلوق اتنی قدیم ہے کہ سائنس دان اسے "لونگ فوسل" (Living Fossil) بھی کہتے ہیں، کیونکہ اس کی نسل تقریباً 12 کروڑ 50 لاکھ سال سے زمین پر موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق اس شارک کی فوٹیج گہرے سمندری تحقیقی مشنوں کے دوران حاصل کی گئی۔ گوبلن شارک کو پہلی مرتبہ 2019 میں بحرالکاہل میں واقع جارویس جزیرے کے قریب جبکہ بعد ازاں 2024 میں ٹونگا ٹرینچ کی گہرائیوں میں کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیا۔
حال ہی میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق کے مطابق یہ شارک عام حالات میں اپنے جبڑوں کو اندر کی طرف رکھتی ہے، لیکن شکار کے وقت بجلی کی سی تیزی سے انہیں آگے کی جانب نکال کر شکار کو جکڑ لیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے جبڑوں کی حرکت سمندری دنیا کے تیز ترین شکار کرنے والے نظاموں میں شمار ہوتی ہے۔
گوبلن شارک کا رنگ ہلکا گلابی یا سرمئی ہوتا ہے جبکہ اس کی لمبی ناک میں حساس برقی رسیپٹرز موجود ہوتے ہیں جو اندھیرے پانیوں میں شکار کا پتہ لگانے میں مدد دیتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ نایاب شارک عموماً 2 ہزار میٹر (تقریباً 6 ہزار 500 فٹ) یا اس سے زیادہ گہرائی میں رہتی ہے، جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس مخلوق کا مشاہدہ کرنا انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی ویڈیوز سے گوبلن شارک کے رویوں، شکار کے طریقوں اور گہرے سمندری ماحولیاتی نظام کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔