دنیا کے سب سے معمر اور تاحال زندہ خشکی پر رہنے والے جانور، جوناتھن کچھوے کو گنیز ورلڈ ریکارڈز نے باضابطہ طور پر ’’آئیکون‘‘ قرار دے دیا ہے۔ 194 سالہ جوناتھن نہ صرف اپنی غیر معمولی عمر کی وجہ سے مشہور ہے بلکہ اب وہ دنیا بھر میں طویل عمری اور ثابت قدمی کی علامت بھی بن چکا ہے۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق جوناتھن کا تعلق بحرِ ہند میں واقع سیشلز کے عظیم الجثہ کچھوؤں کی نسل سے ہے۔ تاہم وہ گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے سے جنوبی بحرِ اوقیانوس کے جزیرے سینٹ ہیلینا میں مقیم ہے۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق جب اسے 1882 میں سیشلز سے سینٹ ہیلینا منتقل کیا گیا تو اس وقت بھی وہ کم از کم 50 سال کا بالغ کچھوا تھا، جس کی بنیاد پر اس کی پیدائش 1832 یا اس سے پہلے کی سمجھی جاتی ہے۔
سینٹ ہیلینا کے حکام کے مطابق جوناتھن اس جزیرے کی سب سے معروف اور محبوب شخصیت بن چکا ہے۔ اپنی طویل زندگی کے دوران وہ متعدد شاہی شخصیات، سیاحوں اور مقامی تقریبات کا حصہ رہا ہے، جبکہ ہزاروں افراد اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جزیرے کا رخ کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بڑھاپے کے باوجود جوناتھن اب بھی متحرک زندگی گزار رہا ہے۔ اگرچہ وہ اپنی بینائی اور سونگھنے کی حس تقریباً کھو چکا ہے، لیکن پھر بھی باقاعدگی سے خوراک کھاتا، دھوپ سینکتا اور اپنی نسل کے دیگر کچھوؤں کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق ’’آئیکون‘‘ کا اعزاز صرف ان ریکارڈ ہولڈرز کو دیا جاتا ہے جن کی کامیابیاں اپنے شعبے سے بڑھ کر دنیا بھر کے لوگوں کے لیے متاثر کن مثال بن جائیں۔ جوناتھن کی تقریباً دو صدیوں پر محیط زندگی اسے اس اعزاز کا ایک منفرد حقدار بناتی ہے۔
جوناتھن کی داستان اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ قدرت کے بعض شاہکار وقت کی حدود کو بھی چیلنج کر دیتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ 194 سال بعد بھی یہ عظیم الجثہ کچھوا دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔