مٹھی کے نواحی علاقے میں گیسٹرو کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایک ہی محلے سے درجنوں افراد میں بیماری کی علامات رپورٹ ہوئی ہیں۔ مقامی اسپتالوں میں گزشتہ دو ماہ کے دوران 70 سے زائد مریضوں کو علاج کے لیے لایا گیا ہے۔
صحت کے حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں غیر فلٹر شدہ اور غیر محفوظ پانی کے استعمال کو بیماری کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ متاثرہ علاقے میں موجود آر او پلانٹ اگرچہ فعال تھا، تاہم انتظامیہ کے مطابق اس کی مرمت اور بہتری کے لیے فوری اقدامات کیے گئے ہیں اور دو اضافی ٹینک بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
محکمہ صحت نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ پینے کے پانی کے لیے صرف فلٹر شدہ یا محفوظ ذرائع استعمال کریں تاکہ مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی بیماری عام طور پر آلودہ پانی اور ناقص صفائی کے باعث پھیلتی ہے۔
علاقہ مکینوں میں صورتحال کے باعث تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ حکام نے مزید کیسز کی روک تھام کے لیے نگرانی کا عمل تیز کر دیا ہے۔